ہر نفس مورد سفر ہیں ہم

رضا عظیم آبادی

ہر نفس مورد سفر ہیں ہم

رضا عظیم آبادی

MORE BYرضا عظیم آبادی

    ہر نفس مورد سفر ہیں ہم

    گویا دکان شیشہ گر ہیں ہم

    شمع کے گاہ تاج سر ہیں ہم

    گہہ پتنگے کے بال و پر ہیں ہم

    عشق نے جب سے کی ہے دل کر نی

    برق ہیں شعلہ ہیں شرر ہیں ہم

    رنگ رخسار خوب رویاں ہیں

    آہ عشاق کے اثر ہیں ہم

    ہم ہیں نیرنگیٔ بہار کے رنگ

    نخل و برگ و گل و ثمر ہیں ہم

    سجدہ گہ ہیں تمام عالم کی

    کس کی یہ خاک رہ گزر ہیں ہم

    اہل دل اپنے رہتے ہیں مشتاق

    گویئا وصل کی خبر ہیں ہم

    حال خط شکستہ میں لکھا

    یعنی اس سے شکستہ تر ہیں ہم

    دشمنی ہم سے ہو نہیں سکتی

    تجھ سے شرمندہ کینہ ور ہیں ہم

    جب سے دیکھی ہے اس کے گھر کی راہ

    اور خانہ خراب تر ہیں ہم

    رشک میں شور و شر سے ہیں لاچار

    کچھ فرشتے نہیں بشر ہیں ہم

    اس نے احوال پوچھا ہم مر گئے

    کس قدر قصہ مختصر ہیں ہم

    کیا کریں دل نہیں ہے پاس رضاؔ

    صبر میں ورنہ بے جگر ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY