ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

بشر نواز

ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

بشر نواز

MORE BYبشر نواز

    ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میرا

    ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا

    میں کہاں جاؤں کہ پہچان سکے کوئی مجھے

    اجنبی مان کے چلتا ہے مجھے گھر میرا

    جیسے دشمن ہی نہیں کوئی مرا اپنے سوا

    لوٹ آتا ہے مری سمت ہی پتھر میرا

    جو بھی آتا ہے وہی دل میں سما جاتا ہے

    کتنے دریاؤں کا پیاسا ہے سمندر میرا

    تو وہ مہتاب تکیں راہ اجالے تیری

    میں وہ سورج کہ اندھیرا ہے مقدر میرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY