ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے

رخشاں ہاشمی

ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے

رخشاں ہاشمی

MORE BY رخشاں ہاشمی

    ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے

    بڑے آئے مجھے تہذیب سکھانے والے

    تو ہی ہر رند کا قبلہ ہو ضروری تو نہیں

    شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے

    کوئی اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے

    روز آتے ہیں مجھے خواب ڈرانے والے

    جس کو دیکھو ہے وہی پیکر آلام یہاں

    کھو گئے جانے کہاں ہنسنے ہنسانے والے

    وقت کے آگے سپر ڈالے ہوئے کون ہیں یہ

    ہم تو تھے وقت کی بنیاد ہلانے والے

    سات پردوں میں تجھے ڈھونڈھ ہی لیں گے رخشاںؔ

    چین سے رہنے کہاں دیں گے زمانے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY