ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں

نظیر صدیقی

ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں

نظیر صدیقی

MORE BYنظیر صدیقی

    ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں

    کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں

    مجرم ہیں سارے اہل وفا تیرے شہر میں

    کیا خوب ہے وفا کا صلہ تیرے شہر میں

    اہل ہوس کے نام سے ہیں روشناس خلق

    ملتی ہے جن کو داد وفا تیرے شہر میں

    رکھتے ہیں لوگ تہمتیں اپنے نصیب پر

    کرتے ہیں یوں بھی تیرا گلا تیرے شہر میں

    اپنوں پہ اعتماد نہ غیروں پہ اعتماد

    یہ کیسی چل پڑی ہے ہوا تیرے شہر میں

    ہوتا ہے کس مرض کا مداوا ترے یہاں

    ملتی ہے کس مرض کی دوا تیرے شہر میں

    رکھتے ہیں ہر جزا کو قیامت پہ منحصر

    دیتے ہیں ہر خطا کی سزا تیرے شہر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY