ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض

شاد عظیم آبادی

ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض

    جب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض

    پھیلا کے ہاتھ مفت میں ہوں گے ذلیل ہم

    محروم تیرے در سے پھرے گی دعا غرض

    دنیا میں کچھ تو روح کو اس جسم سے ہے کام

    ملتا ہے ورنہ کون کسی سے بلا غرض

    وصل و فراق و حسرت و امید سے کھلا

    ہم راہ ہے ہر ایک بقا کے فنا غرض

    اک پھر کے دیکھنے میں گئی سیکڑوں کی جاں

    تیری ہر اک ادا میں بھری ہے جفا غرض

    دیکھا تو تھا یہی سبب حسرت و الم

    مجبور ہو کے ترک کیا مدعا غرض

    کیونکر نہ روح و جسم سے ہو چند دن ملاپ

    اس کو جدا غرض ہے تو اس کو جدا غرض

    الزام تاکہ سر پہ کسی طرح کا نہ ہو

    اے شادؔ ڈھونڈتی ہے بہانے قضا غرض

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY