ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

راغب مرادآبادی

ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

راغب مرادآبادی

MORE BYراغب مرادآبادی

    ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

    میری زمیں ملے گی گلے آسمان سے

    سینے میں ہیں خلا کے وہ محفوظ آج بھی

    جو حرف ادا ہوئے ہیں ہماری زبان سے

    وہ میرے ہی قبیلے کا باغی نہ ہو کہیں

    اک تیر ادھر کو آیا ہے جس کی کمان سے

    صیاد نے کیا ہے اسی کو اسیر دام

    طائر جو دل گرفتہ رہا ہے اڑان سے

    ناکامیوں نے اور بڑھائے ہیں حوصلے

    گزرا ہوں جب کبھی میں کسی امتحان سے

    کہلائے جس میں رہ کے ہمیشہ کرایہ دار

    کیا انس ہو مکین کو ایسے مکان سے

    کیوں پیروی پہ ان کی ہو مائل مرا دماغ

    غالبؔ کے ہوں نہ میرؔ کے میں خاندان سے

    راغبؔ بہ احتیاط ہی لازم ہے گفتگو

    دشمن کو بھی گزند نہ پہنچے زبان سے

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 471)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY