حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

شوکت پردیسی

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

    دور کی روشنی سے ڈرتا ہوں

    دیکھ کر بستیوں کی ویرانی

    اب تو ہر آدمی سے ڈرتا ہوں

    عقل تاروں کو چھو کے آتی ہے

    اور میں چاندنی سے ڈرتا ہوں

    پہلے ڈرتا تھا تیرگی سے میں

    اور اب روشنی سے ڈرتا ہوں

    میری بے چارگی تو یہ بھی ہے

    آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں

    یہ بھی اک پھانس بن نہ جائے کہیں

    غم کی آسودگی سے ڈرتا ہوں

    تیری زلفوں کی چھاؤں میں رہ کر

    آنے والی خوشی سے ڈرتا ہوں

    تم تو ترک وفا بھی کر لو گے

    اور میں اس گھڑی سے ڈرتا ہوں

    بے غرض کون ہے کہ اے شوکتؔ

    میں یہ کہہ دوں اسی سے ڈرتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY