ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا

پروین شاکر

ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا

    دریچہ کھولیں کہ ہے وقت اس کے آنے کا

    اثر ہوا نہیں اس پر ابھی زمانے کا

    یہ خواب زاد ہے کردار کس فسانے کا

    کبھی کبھی وہ ہمیں بے سبب بھی ملتا ہے

    اثر ہوا نہیں اس پر ابھی زمانے کا

    ابھی میں ایک محاذ دگر پہ الجھی ہوں

    چنا ہے وقت یہ کیا مجھ کو آزمانے کا

    کچھ اس طرح کا پر اسرار ہے ترا لہجہ

    کہ جیسے رازکشا ہو کسی خزانے کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites