ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے

رفیق راز

ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    ہوا میں جو یہ ایک نمناکی ہے

    صدا تیز رفتار دریا کی ہے

    قدم روک مت پیچھے مڑ کے نہ دیکھ

    یہ آواز کم بخت دنیا کی ہے

    مکاں تو مرا لا مکاں ہو گیا

    شکایت مگر تنگئ جا کی ہے

    بھڑکتا ہے شعلہ سا رنگ سکوت

    قلندر کے لہجے میں بیباکی ہے

    پڑا رہ بدن کے دریچے نہ کھول

    مری انگلیوں میں ہوس ناکی ہے

    شجر سے لپٹ کر نہ روئے گی یہ

    ہوا جو چلی ہے وہ صحرا کی ہے

    مرے شیشۂ لا زماں پر ابھی

    بہت گرد امروز و فردا کی ہے

    چمک آنکھ میں حیرتوں کی نہیں

    بس اک دھوپ تاب تماشا کی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے