ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کے

جہانزیب ساحر

ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کے

جہانزیب ساحر

MORE BYجہانزیب ساحر

    ہوا میں تیر رہے ہیں سحاب مٹی کے

    زمیں پہ آئیں گے اک دن عذاب مٹی کے

    مجھے تو اس سے کئی آدمی بنانے تھے

    پرند بھی نہ بنے دستیاب مٹی کے

    فلک سے نور کی صورت سوال اترے تھے

    دیے زمین نے لیکن جواب مٹی کے

    یہ کس جہان میں مجھ کو گمان لے آیا

    ابھر رہے ہیں یہاں آفتاب مٹی کے

    پھر ایک روز اسے چاک پر اتارا گیا

    پھر اس کے بعد ہوئے دن خراب مٹی کے

    کیے گئے تھے ہزاروں ہی تجربات مگر

    بدن رہے ہیں فقط کامیاب مٹی کے

    یہ اس کے نقش کف پا ہیں اور لگتے ہیں

    زمیں پہ جیسے کھلے ہوں گلاب مٹی کے

    کسی کے واسطے ساحر چراغ تھے لیکن

    ہوا کے ہاتھ پہ رکھے تھے خواب مٹی کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY