حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم

عزیز نبیل

حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    حیات و کائنات پر کتاب لکھ رہے تھے ہم

    جہاں جہاں ثواب تھا عذاب لکھ رہے تھے ہم

    ہماری تشنگی کا غم رقم تھا موج موج پر

    سمندروں کے جسم پر سراب لکھ رہے تھے ہم

    سوال تھا کہ جستجو عظیم ہے کہ آرزو

    سو یوں ہوا کہ عمر بھر جواب لکھ رہے تھے ہم

    سلگتے دشت، ریت اور ببول تھے ہر ایک سو

    نگر نگر، گلی گلی گلاب لکھ رہے تھے ہم

    زمین رک کے چل پڑی، چراغ بجھ کے جل گئے

    کہ جب ادھورے خوابوں کا حساب لکھ رہے تھے ہم

    مجھے بتانا زندگی وہ کون سی گھڑی تھی جب

    خود اپنے اپنے واسطے عذاب لکھ رہے تھے ہم

    چمک اٹھا ہر ایک پل، مہک اٹھے قلم دوات

    کسی کے نام دل کا انتساب لکھ رہے تھے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY