ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو

عبد الحفیظ نعیمی

ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    ہونکتے دشت میں اک غم کا سمندر دیکھو

    تم کسی روز اگر دل میں اتر کر دیکھو

    نکلو سڑکوں پہ تو ہنستی ہوئی لاشوں سے ملو

    بند آنکھیں جو کرو قتل کا منظر دیکھو

    آنچ قربت کی نہ پگھلا دے کہیں تار نظر

    شعلۂ حسن کو کچھ دور سے بچ کر دیکھو

    یہ تو کہتے ہو کہ خود میں نے کٹائی گردن

    کوئی ہاتھوں میں ہوا کے بھی تو خنجر دیکھو

    آستینیں تو کہیں چپکے سے دھو لو یارو

    ہو کسی کو نہ شبہ قتل کا تم پر دیکھو

    در و دیوار سے اٹھتے ہیں یہ شعلے کیسے

    دوستو چل کے ذرا گھر کے تو اندر دیکھو

    ہڈیاں گل چکیں اب تو نہ اکھیڑو ان کو

    ڈھونڈ لیں پھر یہ نیا کوئی نہ پیکر دیکھو

    میں بھی اس صفحۂ ہستی پہ ابھر سکتا ہوں

    رنگ تو تم مری تصویر میں بھر کر دیکھو

    اب تو کھلتی ہوئی کلیوں میں نہ ڈھونڈو مجھ کو

    راکھ ہوتے ہوئے اک شعلے کا منظر دیکھو

    پھینک دو ٹوٹی امیدوں کے یہ ٹکڑے باہر

    دل میں رہ جائے کرچ کوئی نہ گڑ کر دیکھو

    لیے آئینہ وفاؤں کا کہاں پھرتے ہو

    ہوں نہ ہاتھوں میں کہیں اندھوں کے پتھر دیکھو

    ایک مدت سے ہے لوگوں کو نعیمیؔ کی تلاش

    قصر تنہائی کی دیواریں گرا کر دیکھو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY