ہوئے مجھ سے جس گھڑی تم جدا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

نذیر بنارسی

ہوئے مجھ سے جس گھڑی تم جدا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

نذیر بنارسی

MORE BYنذیر بنارسی

    ہوئے مجھ سے جس گھڑی تم جدا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مری ہر نظر تھی اک التجا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    وہ تمہارا کہنا کہ جائیں گے اگر آ سکے تو پھر آئیں گے

    اسے اک زمانہ گزر گیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مری بے قراریاں دیکھ کر مجھے تم نے دی تھیں تسلیاں

    مرا چہرہ پھر بھی اداس تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مری بے بسی نے زبان تک جسے لا کے تم کو رلا دیا

    مرے ٹوٹے ساز کی وہ صدا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    تمہیں چند قطرۂ اشک بھی کیے پیش جس کے جواب میں

    وہ سلام نیچی نگاہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مرے شانے پر یہی زلف تھی جو ہے آج مجھ سے کھنچی کھنچی

    مرے ہاتھ میں یہی ہاتھ تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کبھی ہاتھ میں جو شراب لی وہیں تم نے چھین کے پھینک دی

    مجھے یاد ہے مرے پارسا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    کہیں تم کو جانا ہوا اگر نہ گئے بغیر نذیرؔ کے

    وہ زمانہ اپنے نذیرؔ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Nazeer Banarasi (Pg. 59)
    • Author : Nazeer Banarsi
    • مطبع : Educational Publishing House (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY