حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے

حسن نعیم

حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے

حسن نعیم

MORE BYحسن نعیم

    حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے

    عشق کی زندہ روایات سے جی ڈرتا ہے

    میں نے مانا کہ مجھے ان سے محبت نہ رہی

    ہم نشیں پھر بھی ملاقات سے جی ڈرتا ہے

    سچ تو یہ کہ ابھی دل کو سکوں ہے لیکن

    اپنے آوارہ خیالات سے جی ڈرتا ہے

    اتنا رویا ہوں غم دوست ذرا سا ہنس کر

    مسکراتے ہوئے لمحات سے جی ڈرتا ہے

    جو بھی کہنا ہے کہو صاف شکایت ہی سہی

    ان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے

    ہجر کا درد نئی بات نہیں ہے لیکن

    دن وہ گزرا ہے کہ اب رات سے جی ڈرتا ہے

    کون بھولا ہے نعیمؔ ان کی محبت کا فریب

    پھر بھی ان تازہ عنایات سے جی ڈرتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    حسن کے سحر و کرامات سے جی ڈرتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY