حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

نسیم شاہجہانپوری

حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

نسیم شاہجہانپوری

MORE BYنسیم شاہجہانپوری

    حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

    عشق بادیدۂ نم ہو تو غزل ہوتی ہے

    پھول برسائیں کہ وہ ہنس کے گرائیں بجلی

    کوئی بھی خاص کرم ہو تو غزل ہوتی ہے

    کبھی دنیا ہو کبھی تم کبھی تقدیر خلاف

    روز اک تازہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے

    دامن ضبط چھٹے چور ہو یا شیشۂ دل

    حادثہ کوئی اہم ہو تو غزل ہوتی ہے

    شکن گیسوئے دوراں ہی پہ موقوف نہیں

    ان کی زلفوں میں بھی خم ہو تو غزل ہوتی ہے

    چارہ گر لاکھ کریں کوشش درماں لیکن

    درد اس پر بھی نہ کم ہو تو غزل ہوتی ہے

    راز تخلیق غزل ہم کو ہے معلوم نسیمؔ

    جام ہو مے ہو صنم ہو تو غزل ہوتی ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    حسن مائل بہ ستم ہو تو غزل ہوتی ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY