حسن پابند حنا ہو جیسے

رضا ہمدانی

حسن پابند حنا ہو جیسے

رضا ہمدانی

MORE BYرضا ہمدانی

    حسن پابند حنا ہو جیسے

    یہ وفاؤں کا صلہ ہو جیسے

    یوں وہ کرتے ہیں کنارا مجھ سے

    اس میں میرا ہی بھلا ہو جیسے

    طعنہ دیتے ہیں مجھے جینے کا

    زندگی میری خطا ہو جیسے

    اس طرح آنکھ سے ٹپکا ہے لہو

    شاخ سے پھول گرا ہو جیسے

    سر کہسار وہ بادل گرجا

    دل دھڑکنے کی صدا ہو جیسے

    حال دل پوچھتے ہو یوں مجھ سے

    تم مرے دل سے جدا ہو جیسے

    یاد یوں آئی تری رک رک کر

    کوئی زنجیر بہ پا ہو جیسے

    اب جفا کو بھی ترستے ہیں رضاؔ

    یہی تاثیر دعا ہو جیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY