ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی

سلیم صدیقی

ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    ہوں پارسا ترے پہلو میں شب گزار کے بھی

    میں بے لباس نہیں پیرہن اتار کے بھی

    ہر ایک سر کو بلندی عطا نہیں کرتے

    اصول ہوتے ہیں کچھ تو صلیب و دار کے بھی

    ہمارے عکس بھی دھندھلے ہوئے تو ہم سمجھے

    کہ آئینوں سے ہیں رشتے یہاں غبار کے بھی

    نہ آبلوں سے ہے رغبت نہ پاؤں سے رنجش

    عجب سلوک ہیں میدان خارزار کے بھی

    وہ بے یقین بھروسہ نہ کر سکا ورنہ

    تھے میرے ساتھ کئی لوگ اعتبار کے بھی

    فقط تمہیں کو نہیں اپنی سادگی پہ غرور

    دماغ عرش پہ رہتے ہیں خاکسار کے بھی

    میں جس کے پاؤں کی آہٹ کا منتظر تھا سلیمؔ

    وہ جا چکا مجھے دہلیز سے پکار کے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY