ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کا

سبیلہ انعام صدیقی

ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کا

سبیلہ انعام صدیقی

MORE BYسبیلہ انعام صدیقی

    ادراک ہی محال ہے خواب و خیال کا

    دل کے ورق پہ عکس ہے اس کے جمال کا

    روتی نہیں ہوں میں کبھی دنیا کے سامنے

    رکھتی ہوں حوصلہ میں نہایت کمال کا

    ہیں مرحلے عجیب یہ عشق و خرد کے بھی

    لمحوں میں کر رہی ہوں سفر ماہ و سال کا

    درویش ہے کوئی تو قلندر ولی کوئی

    بندوں نے پایا عشق میں رتبہ کمال کا

    اتنے سکوں سے میں نے کیا عشق کا سفر

    آیا نہیں گمان کسی احتمال کا

    کیسا عجیب دور ہے موجودہ دور بھی

    مفہوم کوئی سمجھے نہ دل کے سوال کا

    دم گھٹ رہا ہو جب مرا اپنے وجود میں

    کیا خاک تذکرہ ہو فراق و وصال کا

    کرتی نہیں سبیلہؔ گلہ میں یہ سوچ کر

    ساتھی نہیں یہاں کوئی رنج و ملال کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY