اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

صابر وسیم

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

صابر وسیم

MORE BY صابر وسیم

    اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

    وہ شام آئی مگر ہاتھ مل رہا تھا میں

    یہ عمر کیسے گزاری بس اتنا یاد ہے اب

    اداس رات کے صحرا پہ چل رہا تھا میں

    بس ایک ضد تھی سو خود کو تباہ کرتا رہا

    نصیب اس کے کہ پھر بھی سنبھل رہا تھا میں

    بھری تھی اس نے رگ و پے میں برف کی ٹھنڈک

    سو ایک برف کی صورت پگھل رہا تھا میں

    خدا صفت تھا وہ لمحہ کہ جس میں گم ہو کر

    زمیں سے آسماں کے دکھ بدل رہا تھا میں

    میں ایک عہد تھا اک عہد کی علامت تھا

    ہزار چہروں میں دن رات ڈھل رہا تھا میں

    بس ایک ابر کے سائے نے آ لیا مجھ کو

    عذاب اوڑھ کے گھر سے نکل رہا تھا میں

    مآخذ:

    • کتاب : meyaar (Pg. 361)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY