اک ادھوری سی کہانی میں سناتا کیسے

آلوک مشرا

اک ادھوری سی کہانی میں سناتا کیسے

آلوک مشرا

MORE BY آلوک مشرا

    اک ادھوری سی کہانی میں سناتا کیسے

    یاد آتا بھی نہیں خواب وہ بکھرا کیسے

    کتنے سایوں سے بھری ہے یہ حویلی دل کی

    ایسی بھگدڑ میں کوئی شخص ٹھہرتا کیسے

    پھول زخموں کے یہاں اور بھی چن لوں لیکن

    اپنا دامن میں کروں اور کشادہ کیسے

    دکھ کے سیلاب میں ڈوبا تھا وہ خود ہی اتنا

    میری آنکھو تمہیں دیتا وہ دلاسہ کیسے

    کانچ کے زار سے بس دیکھتا رہتا تھا تمہیں

    بند شیشوں سے میں آواز لگاتا کیسے

    اس کا پھن میں نے بہت دیر تلک کچلا تھا

    رہ گیا سانپ ترے درد کا زندہ کیسے

    اب تو آنکھوں میں سیاہی سی بھری رہتی ہے

    ایسے عالم میں کوئی خواب ہو اجلا کیسے

    داغ ہی داغ ابھر آئے مرے چہرہ پر

    رنگ میرا اے مصور ہوا بھدا کیسے

    خشک مٹی میں پڑا تھا مرے دل کا پودھا

    اس کی شاخوں پہ کوئی پھول بھی آتا کیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY