اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر

بلال سہارن پوری

اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر

بلال سہارن پوری

MORE BYبلال سہارن پوری

    اک برہمن نے کہا ہے میرے حال زار پر

    ہو کے مومن مر رہا ہے کیوں بت پندار پر

    دیکھ کر بارش کی بوندیں سوچتا رہتا ہوں میں

    رو رہا ہے آسماں بھی آج ہجر یار پر

    جانے کتنے عاشقوں کی جان کا دشمن ہے یہ

    جو حسیں ڈمپل پڑا ہے آپ کے رخسار پر

    ہے مریض عشق تو محبوب کے پہلو میں جا

    اس مرض کی تو دوا ملتی نہیں عطار پر

    یوں لگا اس گل بدن کو آج چھو لینے کے بعد

    انگلیاں رکھ دی ہوں میں نے جیسے نوک خار پر

    شعر کب میں نے کہے ہیں خون تھوکا ہے بلالؔ

    داد تو بنتی ہے صاحب میرے ان اشعار پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY