اک دامن رنگیں لہرایا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی

نشور واحدی

اک دامن رنگیں لہرایا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    اک دامن رنگیں لہرایا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی

    جب سیر چمن کو وہ نکلے پھولوں کی جبیں شرما ہی گئی

    یہ صحن چمن یہ باغ جہاں خالی تو نہ تھا نکہت سے مگر

    کچھ دامن گل سے دور تھا میں کچھ باد صبا کترا ہی گئی

    احساس الم اور پاس حیا اس وقت کا آنسو صہبا ہے

    اس چشم حسیں کو کیا کہئے جب پی نہ سکی چھلکا ہی گئی

    خودبیں تھا مزاج حسن مگر دامان محبت چھو ہی گیا

    انداز تغافل کچھ بھی سہی کچھ ان کی نظر فرما ہی گئی

    ہر شعلہ گر عہد ظلمت انجام سے اپنے ڈرتا ہے

    جب ذکر سحر محفل میں چھڑا کچھ شمع کی لو تھرا ہی گئی

    اس دور میں کتنے شیخ حرم مے خانے کا رستہ پوچھ گئے

    ساقی کی نظر بیگانہ سہی کچھ کار جہاں سمجھا ہی گئی

    اک آہ جو شعلہ بار ہوئی عالم میں شرارے پھیل گئے

    اک موج جو مضطر ہو کے اٹھی دریا کا لہو گرما ہی گئی

    تہذیب کے رعنا پیکر سے یہ بار امانت اٹھ نہ سکا

    ناظورۂ عہد حاضر کی نازک تھی کمر بل کھا ہی گئی

    زہراب زمانہ پی پی کر جو اہل جنوں تھے راہ لگے

    شاعر کو نشورؔ اک زلف دوتا غم دے نہ سکی الجھا ہی گئی

    مآخذ :
    • کتاب : Sawad-e-manzil (Pg. 219)
    • Author : Nushoor Wahedi
    • مطبع : Maktaba Jamia Ltd, Delhi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY