اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

شارق کیفی

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

شارق کیفی

MORE BYشارق کیفی

    اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

    پہلے یار بنایا پھر سمجھایا ہم نے

    خود بھی آخر کار انہی وعدوں سے بہلے

    جن سے ساری دنیا کو بہلایا ہم نے

    بھیڑ نے یوں ہی رہبر مان لیا ہے ورنہ

    اپنے علاوہ کس کو گھر پہنچایا ہم نے

    موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی

    ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے

    گھر سے نکلے چوک گئے پھر پارک میں بیٹھے

    تنہائی کو جگہ جگہ بکھرایا ہم نے

    ان لمحوں میں کس کہ شرکت کیسی شرکت

    اسے بلا کر اپنا کام بڑھایا ہم نے

    دنیا کے کچے رنگوں کا رونا رویا

    پھر دنیا پر اپنا رنگ جمایا ہم نے

    جب شارقؔ پہچان گئے منزل کی حقیقت

    پھر رستہ کو رستہ بھر الجھایا ہم نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے