اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

پروین شاکر

اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا

    مجھ میں تیرا جمال تھا کیا تھا

    تیرے جانے پہ اب کے کچھ نہ کہا

    دل میں ڈر تھا ملال تھا کیا تھا

    برق نے مجھ کو کر دیا روشن

    تیرا عکس جلال تھا کیا تھا

    ہم تک آیا تو بہر لطف و کرم

    تیرا وقت زوال تھا کیا تھا

    جس نے تہہ سے مجھے اچھال دیا

    ڈوبنے کا خیال تھا کیا تھا

    جس پہ دل سارے عہد بھول گیا

    بھولنے کا سوال تھا کیا تھا

    تتلیاں تھے ہم اور قضا کے پاس

    سرخ پھولوں کا جال تھا کیا تھا

    RECITATIONS

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان,

    صبیحہ خان

    اک ہنر تھا کمال تھا کیا تھا صبیحہ خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے