اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

عدیم ہاشمی

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

    میں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

    بھاگتا ہوں ہر طرف ایسے ہوا کے ساتھ ساتھ

    جس طرح سچ مچ مجھے اس کا پتا مل جائے گا

    کس طرح روکو گے اشکوں کو پس دیوار چشم

    یہ تو پانی ہے اسے تو راستہ مل جائے گا

    ایک دن تو ختم ہوگی لفظ و معنی کی تلاش

    ایک دن تو مجھ کو میرا مدعا مل جائے گا

    ایک دن تو اپنے جھوٹے خول کو توڑے گا وہ

    ایک دن تو اس کا دروازہ کھلا مل جائے گا

    جا رہا ہوں اس یقیں سے اس کے چھوڑے گھر کی سمت

    جیسے وہ باہر گلی میں جھانکتا مل جائے گا

    چھوڑ خالی گھر کو آ باہر چلیں گھر سے عدیمؔ

    کچھ نہیں تو کوئی چہرہ چاند سا مل جائے گا

    تیز ہوتی جا رہی ہیں دھڑکنیں ایسے عدیمؔ

    جیسے اگلے موڑ پر وہ بے وفا مل جائے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY