اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں

شاہ نصیر

اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں

شاہ نصیر

MORE BYشاہ نصیر

    اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میں

    اشک آنکھ میں ہے دل میں ہے داغ آہ جگر میں

    آرام مجھے بن ترے اک پل نہیں گھر میں

    جوں مردمک دیدہ ہوں دن رات سفر میں

    پھرتا ہے وہ گل پوش مرے دیدۂ تر میں

    ہے شعلۂ جوالہ کی تصویر بھنور میں

    سوراخ یہاں صورت فوارہ ہیں سر میں

    دکھلاؤں تماشا جو مجھے چھوڑ دے گھر میں

    رشک آئے نہ کیوں مجھ کو کہ تو دیکھ زر و سیم

    رکھتا ہے قدم پلۂ خورشید و قمر میں

    میں ان در شہوار کے اشکوں سے ادھر آ

    تولوں گا بٹھا کر تجھے حیران نظر میں

    آ دیکھ نہ ہنس ہنس کے رلا مجھ کو ستم گر

    اک نوح کا طوفاں ہے مرے دیدۂ تر میں

    عکس لب پاں خوردہ سے دنداں ہیں ترے سرخ

    یا آتش یاقوت ہے یہ آب گہر میں

    باز آؤ شکار افگنی سے ہاتھ اٹھاؤ

    بھالے کو میاں کس لیے رکھتے ہو کمر میں

    رہتی ہے بہم زلف بنا گوش سے تیرے

    کچھ فرق نہیں ہے سر مو شام و سحر میں

    ہے اس میں رقم حال سیہ بختی عاشق

    یہ نامہ کوئی باندھ دو اب زاغ کے پر میں

    یہ بھی کوئی انصاف ہے اے خانہ خراب آہ

    اوروں کو تو لے جائے ہے تو دن دیئے گھر میں

    اور ہم جو ہیں سو دیکھنے کو بھی ترے ترسیں

    دیوار میں رخنہ ہے نہ سوراخ ہے در میں

    کس وجہ نصیرؔ اس لب شیریں پہ نہ ہو خال

    ہوتا وطن مور تو ہے تنگ شکر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY