اک تبسم سے ہم نے روک لیے

شاعر لکھنوی

اک تبسم سے ہم نے روک لیے

شاعر لکھنوی

MORE BYشاعر لکھنوی

    اک تبسم سے ہم نے روک لیے

    وار جتنے غم جہاں نے کیے

    کہہ رہے ہیں ہوا سے راز چمن

    کوئی غنچوں کے بھی تو ہونٹ سیے

    کیف کیا چیز ہے خمار ہے کیا

    یہ سمجھ کر شراب کون پیے

    ختم جب ہو گئیں تمنائیں

    ہم نئے حوصلوں کے ساتھ جیے

    رخ ہوا کا بدل گیا شاید

    گھر کے باہر بھی جل رہے ہیں دیے

    پھول خود ہو گئے گریباں چاک

    موسم گل کے چاک کون سیے

    اپنے دل پر سجا لیے شاعرؔ

    زخم ہم کو جو اس نظر نے دیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY