اک تصور بیکراں تھا اور میں

کبیر اجمل

اک تصور بیکراں تھا اور میں

کبیر اجمل

MORE BYکبیر اجمل

    اک تصور بیکراں تھا اور میں

    درد کا سیل رواں تھا اور میں

    غم کا اک آتش فشاں تھا اور میں

    دور تک گہرا دھواں تھا اور میں

    کس سے میں ان کا ٹھکانا پوچھتا

    سامنے خالی مکاں تھا اور میں

    میرے چہرے سے نمایاں کون تھا

    آئنوں کا اک جہاں تھا اور میں

    اک شکستہ ناؤ تھی امید کی

    ایک بحر بیکراں تھا اور میں

    جستجو تھی منزل موہوم کی

    یہ زمیں تھی آسماں تھا اور میں

    کون تھا جو دھیان سے سنتا مجھے

    قصۂ آشفتگاں تھا اور میں

    ہاتھ میں اجملؔ کوئی تیشہ نہ تھا

    عزم تھا کوہ گراں تھا اور میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے