اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا

جون ایلیا

اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا

جون ایلیا

MORE BY جون ایلیا

    اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا

    مقتل میں پڑے رہیے قاتل نہیں آنے کا

    اب کوچ کرو یارو صحرا سے کہ سنتے ہیں

    صحرا میں اب آئندہ محمل نہیں آنے کا

    واعظ کو خرابے میں اک دعوت حق دی تھی

    میں جان رہا تھا وہ جاہل نہیں آنے کا

    بنیاد جہاں پہلے جو تھی وہی اب بھی ہے

    یوں حشر تو یاران یک دل نہیں آنے کا

    بت ہے کہ خدا ہے وہ مانا ہے نہ مانوں گا

    اس شوخ سے جب تک میں خود مل نہیں آنے کا

    گر دل کی یہ محفل ہے خرچہ بھی ہو پھر دل کا

    باہر سے تو سامان محفل نہیں آنے کا

    وہ ناف پیالے سے سرمست کرے ورنہ

    ہو کے میں کبھی اس کا قائل نہیں آنے کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اک زخم بھی یاران بسمل نہیں آنے کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY