علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا

    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے

    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    ابھی مرتے ہیں ہم جینے کا طعنہ پھر نہ دینا تم

    یہ طعنہ ان کو دینا جن سے ایسا ہو نہیں سکتا

    تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں

    مرا دل پھیر دو مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا

    دم آخر مری بالیں پہ مجمع ہے حسینوں کا

    فرشتہ موت کا پھر آئے پردا ہو نہیں سکتا

    نہ برتو ان سے اپنائیت کے تم برتاؤ اے مضطرؔ

    پرایا مال ان باتوں سے اپنا ہو نہیں سکتا

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 90)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY