ان آنسوؤں کی روانی کا کوئی رنگ نہیں
ان آنسوؤں کی روانی کا کوئی رنگ نہیں
ہماری آنکھ کے پانی کا کوئی رنگ نہیں
کوئی بھی رنگ میسر نہیں مجھے یعنی
مرے وجود و نشانی کا کوئی رنگ نہیں
کسی کسی کی کہانی میں رنگ ہیں کیا کیا
کسی کسی کی کہانی کا کوئی رنگ نہیں
نہ شکل کرب کی کوئی نہ صورتیں دکھ کی
ہماری سوز نہانی کا کوئی رنگ نہیں
کبھی تو رنگ کا مطلب نہیں نکلتا ہے
کبھی ہمارے معانی کا کوئی رنگ نہیں
سوائے زرد نہ کر پائے اپنے بچپن کو
جواں ہوئے تو جوانی کا کوئی رنگ نہیں
اکیلے مصرع اول میں کوئی روپ نہیں
اکیلے مصرع ثانی کا کوئی رنگ نہیں
- کتاب : خامشی راستا نکالے گی (Pg. 40)
- Author : دھیریندر سنگھ فیاض
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2023)
- اشاعت : 3rd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.