Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ان آنسوؤں کی روانی کا کوئی رنگ نہیں

دھیریندر سنگھ فیاض

ان آنسوؤں کی روانی کا کوئی رنگ نہیں

دھیریندر سنگھ فیاض

MORE BYدھیریندر سنگھ فیاض

    ان آنسوؤں کی روانی کا کوئی رنگ نہیں

    ہماری آنکھ کے پانی کا کوئی رنگ نہیں

    کوئی بھی رنگ میسر نہیں مجھے یعنی

    مرے وجود و نشانی کا کوئی رنگ نہیں

    کسی کسی کی کہانی میں رنگ ہیں کیا کیا

    کسی کسی کی کہانی کا کوئی رنگ نہیں

    نہ شکل کرب کی کوئی نہ صورتیں دکھ کی

    ہماری سوز نہانی کا کوئی رنگ نہیں

    کبھی تو رنگ کا مطلب نہیں نکلتا ہے

    کبھی ہمارے معانی کا کوئی رنگ نہیں

    سوائے زرد نہ کر پائے اپنے بچپن کو

    جواں ہوئے تو جوانی کا کوئی رنگ نہیں

    اکیلے مصرع اول میں کوئی روپ نہیں

    اکیلے مصرع ثانی کا کوئی رنگ نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : خامشی راستا نکالے گی (Pg. 40)
    • Author : دھیریندر سنگھ فیاض
    • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2023)
    • اشاعت : 3rd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے