اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

ساحر لدھیانوی

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

    آج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

    خلوتوں کے شیدائی خلوتوں میں کھلتے ہیں

    ہم سے پوچھ کر دیکھو راز پردہ داروں کے

    گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں

    یا حسیں دھندلکوں میں پھول ہیں بہاروں کے

    پہلے ہنس کے ملتے ہیں پھر نظر چراتے ہیں

    آشنا صفت ہیں لوگ اجنبی دیاروں کے

    تم نے صرف چاہا ہے ہم نے چھو کے دیکھے ہیں

    پیرہن گھٹاؤں کے جسم برق پاروں کے

    شغل مے پرستی گو جشن نامرادی تھا

    یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY