عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی

بلقیس خان

عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی

بلقیس خان

MORE BYبلقیس خان

    عشق دریا ہے گراں بار نہ جانے کوئی

    بہتے پانی کو گنہ گار نہ جانے کوئی

    اس میں روحوں کی ملاقات ہوا کرتی ہے

    خواب کے پیار کو بیکار نہ جانے کوئی

    میں جو حالات کے دھارے میں بہی جاتی ہوں

    مجھ کو لہروں کا طرف دار نہ جانے کوئی

    سر جھکایا ہے محبت میں محبت کے لئے

    اس محبت کو مری ہار نہ جانے کوئی

    میں یوں ہی وقت گزاری کو چلی آئی ہوں

    مجھ کو خوابوں کا خریدار نہ جانے کوئی

    مجھ کو حالات کی تلخی نے کیا ہے برہم

    میری گفتار کو تلوار نہ جانے کوئی

    یاد آتے ہی غزل بنتی ہے میری بلقیسؔ

    ساعت ہجر کو آزار نہ جانے کوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY