عشق کی بیماری ہے جن کو دل ہی دل میں گلتے ہیں

رضا عظیم آبادی

عشق کی بیماری ہے جن کو دل ہی دل میں گلتے ہیں

رضا عظیم آبادی

MORE BYرضا عظیم آبادی

    عشق کی بیماری ہے جن کو دل ہی دل میں گلتے ہیں

    مردے ہیں وہ حقیقت میں ظاہر میں پھرتے چلتے ہیں

    جب راہ میں مل گئے کہنے لگے تیرے ہی گھر میں جاتا تھا

    جاؤ چلے لڑکا تو نہیں میں مجھ کو اپنے مچلتے ہیں

    اوروں کے لگانے بجھانے سے اتنا جلاتے ہو مجھ کو

    ڈریے ہماری آہوں سے ہم لوگ بھی جلتے بلتے ہیں

    سب کہتے ہیں ان کے منہ میں تو آب حیات بھرا ہے سب

    ہم سے جو کرتے ہیں باتیں پھر کیوں زہر اگلتے ہیں

    کیسے ہی درد کا شعر پڑھیں وے یوں بھی نہ پوچھے کیا بک گئے

    جن کے دل پتھر ہیں سو کب ان باتوں سے پگھلتے ہیں

    بس کریے چپ رہیے اب کھلوانا رازوں کا خوب نہیں

    ملتے ہیں ہم ہاتھ پڑے کوئی اور کچھ اور ہی ملتے ہیں

    میرے اشک سرخ سے تم یوں غافل ہو افسوس افسوس

    دیکھو تو یہ لعل کے ٹکڑے کیسے خاک میں رلتے ہیں

    شاید آتے جاتے پھر اس خانہ جنگ سے بگڑی ہے

    گھر سے بہت کم میر رضاؔ جی اب ان روزوں نکلتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY