عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگے

شکیل بدایونی

عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگے

شکیل بدایونی

MORE BYشکیل بدایونی

    عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگے

    میرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگے

    میکدے کا مے کدہ خاموش تھا میرے بغیر

    میں ہوا وارد تو پیمانے صدا دینے لگے

    ختم کرنا ہی پڑیں گی شام غم کی الجھنیں

    اب وہ اپنے گیسوؤں کا واسطہ دینے لگے

    اعتراف اوج کا جذبہ نہیں احباب میں

    ہر ترقی پر ترقی کی دعا دینے لگے

    دوستوں کی کج ادائی میں بھی لذت ہے شکیلؔ

    دوست وہ ہے دوست بن کر جو دغا دینے لگے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shakiil Badaayuuni (Pg. 739)
    • Author : Shakiil Badaayuuni
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY