عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے

زینت شیخ

عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے

زینت شیخ

MORE BYزینت شیخ

    عشق کی دھوپ میں ہم تو جلتے رہے

    آبلے پڑ گئے پھر بھی چلتے رہے

    اک چراغ محبت جلا تھا کہیں

    شمع کی طرح ہم بھی پگھلتے رہے

    بے حجابانہ محفل میں وہ آ گئے

    اور دوانوں کے ارماں مچلتے رہے

    تنگ حالی میں پورے نہیں ہو سکے

    خواب مفلس کی آنکھوں میں پلتے رہے

    انتہا ہو گئی وحشیوں کی یہاں

    کتنی معصوم کلیاں مسلتے رہے

    سادگی ہی ہماری سبب بن گئی

    میرے اپنے ہی سب مجھ کو چھلتے رہے

    عشق نے اتنا بے بس ہمیں کر دیا

    جھوٹے وعدوں سے ان کے بہلتے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے