عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

نصرت مہدی

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

نصرت مہدی

MORE BYنصرت مہدی

    عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

    یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے

    یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جاناں

    اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے

    کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے

    دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے

    نقش ہیں دل پہ مرے اب بھی تمہارے وعدے

    خیر چھوڑو وہ تمہیں یاد نہیں ہونے کے

    گھر لیے پھرتی ہوں ہر وقت تمہارے پیچھے

    تم مگر وہ ہو کہ آباد نہیں ہونے کے

    منع ہے رسم و رواجوں سے بغاوت کرنا

    یہ سبق مجھ کو مگر یاد نہیں ہونے کے

    ہم نے خود پہنی ہے نصرتؔ یہ وفا کی زنجیر

    ہم تو خود ہی کبھی آزاد نہیں ہونے کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY