عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

میر تقی میر

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

    آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی

    عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبح

    دن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی

    لوح سینہ پر مری سو نیزۂ خطی لگے

    خستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی

    کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیں

    دید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی

    پاؤں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیں

    رفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی

    مر گیا آوارہ ہو کر میں تو جیسے گرد باد

    پر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی

    شاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کر

    میں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی

    دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں

    گزرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی

    شوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کب

    اب تلک آپ ہی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی

    کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کا

    جان سے جب اس میں گزرے تب ہمیں راحت ہوئی

    یوں تو ہم عاجز ترین خلق عالم ہیں ولے

    دیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی

    گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہوا

    کس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی

    بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گے

    معرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی

    ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل

    چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی

    اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھا

    پھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی

    کم کسو کو میرؔ کی میت کی ہاتھ آئی نماز

    نعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY