عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیا

پیرزادہ قاسم

عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیا

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    عشق نے ہم کو جنوں آثار ایسا کر دیا

    بستۂ ساحل بھی رکھا اور دریا کر دیا

    اس گلستان گماں میں ہم بھی تھے مانند خواب

    گرمیٔ اندیشہ نے ہم کو بھی صحرا کر دیا

    دیدۂ خوش بیں کی یہ اعجاز فرمائی تو دیکھ

    کیسے مبہم خال و خط کو ایک چہرا کر دیا

    یہ جہاں پنہاں تھا اک بے منظری کی خاک میں

    ہم نے چشم شوق سے دیکھا تو دنیا کر دیا

    روشنیٔ طبع نے روشن کیا ہے اک جہاں

    اور مجھے اس آئنہ خانے میں تنہا کر دیا

    جب کبھی شب زاد لمحے گھیرنے آئے ہمیں

    ہم نے شمع جاں جلائی اور سویرا کر دیا

    یہ کرامت بھی عجب اس کی مسیحائی میں ہے

    جو بہ ظاہر بھر دیا وہ زخم گہرا کر دیا

    منتظر تھا وقت سو ہم نے بہ انداز سخن

    آرزو کا اک جہان تازہ پیدا کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY