عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

بیاں احسن اللہ خان

عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

بیاں احسن اللہ خان

MORE BYبیاں احسن اللہ خان

    عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے

    قہر ہے سحر ہے جادو ہے بلا ہے کیا ہے

    یار سے میری جو کرتے ہیں سفارش اغیار

    مکر ہے عذر ہے قابو ہے دغا ہے کیا ہے

    تجھ کو کس نام سے اے فخر مرے یاد کروں

    باپ ہے پیر ہے مرشد ہے خدا ہے کیا ہے

    تم جو بے وجہ سناتے ہو مری جان مجھے

    خوب ہے نیک ہے بہتر ہے بھلا ہے کیا ہے

    روبرو اس کے کبھو بات نہ سدھری ہم سے

    حلم ہے چین ہے دہشت ہے حیا ہے کیا ہے

    نظم کو سن کے مری ہنس کے یہ بولا وہ شوخ

    مدح ہے شکر ہے شکوہ ہے گلہ ہے کیا ہے

    یہ جو اس شوخ پہ کرتا ہے بیاںؔ جان نثار

    خبط ہے عشق ہے سودا ہے وفا ہے کیا ہے

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    عشوہ ہے ناز ہے غمزہ ہے ادا ہے کیا ہے فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY