اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا

نتن نایاب

اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا

نتن نایاب

MORE BY نتن نایاب

    اسی طرح اگا تھا اور اسی طرح سے ڈھل گیا

    یہ آج بھی یوں ہی گیا کی جس طرح سے کل گیا

    جو محو فکر زیست ہیں انہیں بھلا یہ کیا خبر

    طلوع ماہ کب ہوا کب آفتاب ڈھل گیا

    تمام اہل بزم لب کشا سے ہو گیا ہیں کیوں

    یہ آخر ایسا کیا مری زبان سے نکل گیا

    جو کر رہا تھا آفتاب کو نچوڑنے کی بات

    بس اک شعاع کے لمس سے وہ موم سے پگھل گیا

    جو پوچھا اک فقیر سے سفر کا آخری مقام

    قدم کی خاک اٹھا کے وہ مری جبیں پہ مل گیا

    کسی کی آہ ذہن پر اثر کچھ ایسا کر گئی

    مرا تمام درد دل سخن میں ہی بدل گیا

    تو ترک نسبتیں نصیب سے کر رہا ہے پر

    بلندیوں سے پاؤں گر کبھی ترا پھسل گیا

    ہے کس قدر مزاج اداس پتھروں کا دیکھیے

    کوئی تو ہے جو راستے پہ گر کے پھر سنبھل گیا

    ملال کی تو دور تک امید مجھ کو کیا رہے

    جب اس کے ذہن سے مرا خیال ہی نکل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY