اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

آسی غازی پوری

اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

آسی غازی پوری

MORE BYآسی غازی پوری

    اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

    اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا

    شان کرم تھی یہ بھی اگر وہ جدا ہوا

    کیا محنت طلب میں نہ حاصل مزا ہوا

    میں اور کوئے عشق مرے اور یہ نصیب

    ذوق فنا خضر کی طرح رہ نما ہوا

    پہچانتا وہ اب نہیں دشمن کو دوست سے

    کس قید سے اسیر محبت رہا ہوا

    شایان درگزر ہے اگر اضطرار میں

    جرم دراز دستی ذوق دعا ہوا

    کیا کیا نہ اس نے پورے کئے مدعائے دل

    لیکن پسند اسے دل بے مدعا ہوا

    اس کا پتہ کسی سے نہ پوچھو بڑھے چلو

    فتنہ کسی گلی میں تو ہوگا اٹھا ہوا

    گل رویوں کے خیال نے گلشن بنا دیا

    سینہ کبھی مدینہ کبھی کربلا ہوا

    پیچیدہ تھی جو سر میں ہوائے رضائے دوست

    آسیؔ مرید سلسلۂ مرتضیٰ ہوا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY