اتنے پر مغز ہیں دلائل کیا

منیر سیفی

اتنے پر مغز ہیں دلائل کیا

منیر سیفی

MORE BYمنیر سیفی

    اتنے پر مغز ہیں دلائل کیا

    دل کو کر لو گے اپنے قائل کیا

    پھر وہی سر ہے اور وہی تیشہ

    عشق کیا عشق کے مسائل کیا

    روشنی روشنی پکارتے ہو

    روشنی کے نہیں مسائل کیا

    روز میدان جنگ بنتا ہوں

    مجھ میں آباد ہیں قبائل کیا

    کس قدر عرضیاں گزاری ہیں

    کبھی دیکھی ہے میری فائل کیا

    ہاتھ پھیلانا کوئی کم تو نہیں

    پیٹ دکھلائے تم کو سائل کیا

    بیٹھے اب کرچیاں سمیٹتے ہو

    اپنے رستے میں خود تھے حائل کیا

    رات بھر جاگتے رہے ہیں درخت

    کوئی پنچھی ہوا ہے گھائل کیا

    بات بے بات ہنس رہے ہو منیرؔ

    یوں اثر غم کا ہوگا زائل کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY