جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں

مخمور سعیدی

جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    جادۂ مرگ مسلسل سے گزرتا جاؤں

    زندگی یہ ہے کہ ہر سانس میں مرتا جاؤں

    خون ہر لمحۂ موجود کا کرتا جاؤں

    رنگ تصویر‌ شب و روز میں بھرتا جاؤں

    منتشر سلسلۂ غم کو تو کرتا جاؤں

    ساتھ ہی ساتھ مگر خود بھی بکھرتا جاؤں

    بس یوں ہی ہمسریٔ اہل جہاں ممکن ہے

    دم بہ دم اپنی بلندی سے اترتا جاؤں

    میں کسی منزل ہستی پہ کہاں رکتا تھا

    راہ میں تم جو نہ مل جاؤ گزرتا جاؤں

    عمر بھر جادۂ‌ پر خار پہ چلنا ہوگا

    دو گھڑی سایۂ گل میں بھی ٹھہرتا جاؤں

    اپنی قسمت ہوں الجھتا ہی چلا جاتا ہوں

    تیری تقدیر نہیں ہوں کہ سنورتا جاؤں

    مد و جزر یم احساس کا پروردہ ہوں

    ڈوبتا جاؤں مگر خود ہی ابھرتا جاؤں

    آ ہی نکلا ہوں جو یادوں کے کھنڈر تک مخمورؔ

    بھولے بسروں سے ملاقات بھی کرتا جاؤں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY