جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں

جعفر شیرازی

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں

    شہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میں

    پائمال سبزے پر دیکھ کر گرے پتے

    اب زمین سے خود کو کس طرح اٹھاؤں میں

    ان اکیلی راتوں میں ان اکیلے رستوں پر

    کس کے ساتھ آؤں میں کس کے ساتھ جاؤں میں

    ایک ہی سی تنہائی ایک ہی سا سناٹا

    دشت کیا ہے دل کیا ہے کیا تجھے بتاؤں میں

    دیکھ کیسے دن آئے دیکھ میں نہ کہتا تھا

    تو قریب بھی آئے اور تجھے بلاؤں میں

    آج سب میں گھل مل جاؤں مجھ کو کیا خبر کل تک

    کس کو یاد آؤں میں کس کو بھول جاؤں میں

    کتنے کام دنیا نے دے دیئے مجھے جعفرؔ

    اشک غم گراؤں میں بار غم اٹھاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY