جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

راج نرائن راز

جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

راج نرائن راز

MORE BYراج نرائن راز

    جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی

    اجلے موسم کی طرح ایک فضا ہوں میں بھی

    ہاں دھنک ٹوٹ کے بکھری تھی مرے بستر پر

    اے سکوں لمس ترے ساتھ جیا ہوں میں بھی

    راہ پامال تھی چھوڑ آیا ہوں ساتھی سوتے

    کوری مٹی کا گنہ گار ہوا ہوں میں بھی

    کتنا سرکش تھا ہواؤں نے سزا دی کیسی

    کاٹھ کا مرغ ہوں اب باد نما ہوں میں بھی

    کیسی بستی ہے مکیں جس کے ہیں بوڑھے بچے

    کیا مقدر ہے کہاں آ کے رکا ہوں میں بھی

    ایک بے چہرہ سی مخلوق ہے چاروں جانب

    آئینو دیکھو مجھے مسخ ہوا ہوں میں بھی

    ہاتھ شمشیر پہ ہے ذہن پس و پیش میں ہے

    رازؔ کن یاروں کے مابین کھڑا ہوں میں بھی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جانے کس خواب کا سیال نشہ ہوں میں بھی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY