جانے کو جائے فصل گل آنے کو آئے ہر برس

نوح ناروی

جانے کو جائے فصل گل آنے کو آئے ہر برس

نوح ناروی

MORE BYنوح ناروی

    جانے کو جائے فصل گل آنے کو آئے ہر برس

    ہم غم زدوں کے واسطے جیسے چمن ویسے قفس

    رخصت ہوا بیمار غم بالیں سے اٹھے ہم نفس

    تدبیر تو کرتے ہیں سب تقدیر پر کس کا ہے بس

    محشر میں اس بے درد سے گر پوچھ گچھ نے داد کی

    آیا ہوں میں فریاد کو فریاد سن فریاد رس

    ممکن نہیں میں چھٹ سکوں دام وفا و عشق سے

    باندھے گئے سب دست و پا جکڑی گئی ایک ایک نس

    قطع منازل میں کروں تو کس سہارے پر کروں

    مفقود اہل کارواں مسدود آواز جرس

    تو اور دعویٰ عشق کا یہ بھی خدا کی شان ہے

    منصور بننے کے لئے دل چاہئے اے بو الہوس

    کہنے کو ہے سارا جہاں سچے فدائی ہیں کہاں

    دس میں نہ نکلے گا کوئی دس لاکھ میں نکلیں گے دس

    جائے بہار آئے خزاں اس کا تردد کچھ نہیں

    ہیں لالہ و گل سے سوا مجھ کو چمن کے خار و خس

    طول غم و آزار نے ناشاد مجھ کو کر دیا

    ہے ایک گھنٹہ ایک دن ہے اک مہینہ اک برس

    کم بخت مرنے کے لئے صیاد کے گھر آئے ہیں

    دیکھیں گے اب کیا سیر گل چھٹ کر اسیران قفس

    پہنچے سر عرش بریں امید تو ایسی نہیں

    ہاتھوں ہی تک محدود ہے میری دعا کی دسترس

    قابو میں جب دل ہی نہیں تو کیا کہوں میں درد دل

    بڑھ کر ہے تیغ و تیر سے میرے لئے میرا نفس

    سو بار دے کر جام و خم ممنون ساقی نے کیا

    اس کا تقاضا تھا کہ پی میری گزارش تھی کہ بس

    اے خضر آئے لطف کیا مشرب الگ مسلک جدا

    مرنے کی حسرت مجھ کو ہے تم کو ہے جینے کی ہوس

    ان کے علاوہ کون ہے میرے قریں کوئی نہیں

    یا دہنے بائیں آفتیں یا آرزوئیں پیش و پس

    جام و سبو کا ذکر کیا بہتا پھرے خود مے کدہ

    اے ابر رحمت ٹوٹ کر ایسا برس اتنا برس

    کیا ابتدا کیا انتہا جو آئے گا وہ جائے گا

    دنیائے فانی کچھ نہیں اللہ بس باقی ہوس

    لطف و کرم سے کیا غرض قہر و ستم سے کام لے

    بربادیٔ عشاق پر اپنی کمر مضبوط کس

    کب تک یہ سیل اشک غم کب تک یہ طوفاں خیزیاں

    دنیا فنا ہو جائے گی اے نوحؔ بس اے نوحؔ بس

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے