نوح ناروی

  • 1879-1962

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,آپ کا دل کیا مرے دل سے ملا0
0 ا ,ان سے گر فیضیاب ہو جاتا0
0 ا ,بطور_یادگار_زہد مے_خانے میں رکھ دینا0
0 ا ,پہلو میں چین سے دل_مضطر نہ رہ سکا0
0 ا ,چین ہو یا بے_چینی ہو پہلے دل گھبرائے_گا0
0 ا ,خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیا0
0 ا ,دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا0
0 ا ,شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا0
0 ا ,عشق میں مجھ کو بگڑ کر اب سنورنا آ گیا0
0 ا ,کسی بے_درد کو ظلم_و_ستم کا شوق جب ہوگا0
0 ا ,کوئی نہیں پچھتانے والا0
0 ا ,گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا0
0 ا ,محبت کا اچھا نتیجہ نہ دیکھا0
0 ا ,ناکام_نشاط_عیش_و_خوشی ہر وقت کے رنج_و_غم نے کیا0
0 ا ,وہ کہتے ہیں آؤ مری انجمن میں مگر میں وہاں اب نہیں جانے والا0
0 ب ,ہماری جب ہماری اب ہماری کب سے کیا مطلب0
0 پ ,آماج_گاہ_تیر_ستم کون ہم کہ آپ0
0 ت ,واہ یہ لطف_سوز_الفت کس کی بدولت دل کی بدولت0
0 ٹ ,کوئی اس ستم_گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ_پٹ0
0 ج ,کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج0
0 خ ,کب اہل_عشق تمہارے تھے اس قدر گستاخ0
0 د ,فروغ_حسن میں کیا بے_ثبات دل کا وجود0
0 ڈ ,دل_ستانی دل_ربائی پر گھمنڈ0
0 ذ ,آپ کے دل کا مرے دل کا نفاذ0
0 ر ,یہ سماں یہ لطف یہ دل_چسپ منظر دیکھ کر0
0 ڑ ,عشق کے واسطے ہے دل کی آڑ0
0 ڑ ,ہمیشہ تمنا_و_حسرت کا جھگڑا ہمیشہ وفا_و_محبت کا ہلڑ0
0 ز ,دولت ہے بڑی چیز حکومت ہے بڑی چیز0
0 ز ,مانا کہ مرا دل بھی جگر بھی ہے کوئی چیز0
0 س ,جانے کو جائے فصل_گل آنے کو آئے ہر برس0
0 ش ,میں ہوں ظالم کی آن_بان سے خوش0
0 ف ,وہ کریں_گے مرا قصور معاف0
0 گ ,کیا کہوں ہم_نشیں یہ میرا بھاگ0
0 ن ,آپ جن کے قریب ہوتے ہیں0
0 ن ,اس بت_کافر کو ان کا دھیان کیا ہے کچھ نہیں0
0 ن ,اس حسیں کا خیال ہے دل میں0
0 ن ,اہل_الفت سے تنے جاتے ہیں0
0 ن ,بے_کسی میں یہی ہوں پاس کہیں0
0 ن ,تاب نہیں سکوں نہیں دل نہیں اب جگر نہیں0
0 ن ,حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں0
0 ن ,خیال میں اک نہ اک مزے کی نئی کہانی ہے اور ہم ہیں0
0 ن ,ساغر_بدست ہوں میں0
0 ن ,کچھ دنوں قائم رہے اے مہ_جبیں اتنی نہیں0
0 ن ,کوچۂ_یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں0
0 ن ,مرے دل کی خطائیں بھی قیامت ہیں قیامت ہیں0
0 ن ,مری فغاں میں اثر ہے بھی اور ہے بھی نہیں0
0 ن ,میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں0
0 ن ,میں پس_ترک_محبت کسی مشکل میں نہیں0
0 ن ,میں تردد سے کبھی خالی نہیں0
0 ن ,میں کسی شوخ کی گلی میں نہیں0
0 ن ,نارسا آہیں مری اوج_مراتب پا گئیں0
0 ن ,ہم سے یہ کہہ کے وہ حال_شب_غم پوچھتے ہیں0
0 ن ,ہم عشق میں ان مکاروں کے بے_فائدہ جلتے بھنتے ہیں0
0 ن ,یہ مطلب ہے کہ مضطر ہی رہوں میں بزم_قاتل میں0
0 ن ,یہ میرے پاس جو چپ_چاپ آئے بیٹھے ہیں0
0 ن ,یہ نیا ظلم نئی طرز_جفا ہے کہ نہیں0
0 ہ ,بحر_غم میں دل کا قرینہ0
0 و ,اگر اس کا مرا جھگڑا یہیں طے ہو تو اچھا ہو0
0 و ,تم اپنے عاشقوں سے کچھ نہ کچھ دل_بستگی کر لو0
0 و ,دل ہماری طرف سے صاف کرو0
0 و ,دل ہماری طرف سے صاف کرو2
0 و ,کہتا ہے کوئی سن کے مری آہ_رسا کو0
0 و ,کیا وصل کی امید مرے دل کو کبھی ہو0
0 و ,مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو0
0 ی ,ابھی کم_سن ہیں معلومات کتنی0
0 ے ,اپنے اپنے رنگ میں یکتا میں ہی میں ہوں تو ہی تو ہے0
0 ی ,بلبل کا اڑایا دل ناحق یہ خام_خیالی پھولوں کی0
0 ی ,تری تند_خوئی تری کینہ_جوئی تری کج_ادائی تری بے_وفائی0
0 ی ,جو اچھے ہیں ان کی کہانی بھی اچھی0
0 ے ,درد_فراق دل سے جدا ہو تو جانئے0
0 ے ,رہ_طلب میں بنے وہ نشتر ادھر سے جاتے ادھر سے آتے0
0 ے ,سوال_وصل پہ عذر_وصال کر بیٹھے0
0 ے ,کہاں ہم اور دشمن مل کے دونوں کوئی دم بیٹھے0
0 ے ,کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے0
0 ے ,گل_زار میں یہ کہتی ہے بلبل گل_تر سے0
0 ی ,مجھ کو دیوانہ سمجھتے ہیں وہ شیدائی بھی0
0 ی ,نکھر آئی نکھار آئی سنور آئی سنوار آئی0
0 ے ,ہر صدائے عشق میں اک راز ہے0
0 ی ,ہر طرح یوں ہے دوں ہے بے_معنی0
0 ے ,ہر طلب_گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے0
0 ے ,یوں چلے دور تو رندوں کا بڑا کام چلے0
0 ی ,یوں نہ میری بات مانی جائے_گی0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 82 of 82 items