aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Nooh Narvi's Photo'

نوح ناروی

1878 - 1962

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

نوح ناروی کے اشعار

13.7K
Favorite

باعتبار

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا

ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا

ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں

پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں

سنتے رہے ہیں آپ کے اوصاف سب سے ہم

ملنے کا آپ سے کبھی موقع نہیں ملا

وہ خدائی کر رہے تھے جب خدا ہونے سے قبل

تو خدا جانے کریں گے کیا خدا ہونے کے بعد

ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے

یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج

عشق میں کچھ نظر نہیں آیا

جس طرف دیکھیے اندھیرا ہے

دوستی کو برا سمجھتے ہیں

کیا سمجھ ہے وہ کیا سمجھتے ہیں

خدا کے ڈر سے ہم تم کو خدا تو کہہ نہیں سکتے

مگر لطف خدا قہر خدا شان خدا تم ہو

کہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑے

وہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں

دل کے دو حصے جو کر ڈالے تھے حسن و عشق نے

ایک صحرا بن گیا اور ایک گلشن ہو گیا

مجھ کو یہ فکر کہ دل مفت گیا ہاتھوں سے

ان کو یہ ناز کہ ہم نے اسے چھینا کیسا

کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی

میں کسی سے بولنے والی نہیں

محفل میں تیری آ کے یوں بے آبرو ہوئے

پہلے تھے آپ آپ سے تم تم سے تو ہوئے

برسوں رہے ہیں آپ ہماری نگاہ میں

یہ کیا کہا کہ ہم تمہیں پہچانتے نہیں

جب ذکر کیا میں نے کبھی وصل کا ان سے

وہ کہنے لگے پاک محبت ہے بڑی چیز

دل نذر کرو ظلم سہو ناز اٹھاؤ

اے اہل تمنا یہ ہیں ارکان تمنا

نہ ملو کھل کے تو چوری کی ملاقات رہے

ہم بلائیں گے تمہیں رات گئے رات رہے

جو وقت جائے گا وہ پلٹ کر نہ آئے گا

دن رات چاہئے سحر و شام کا لحاظ

اشکوں کے ٹپکنے پر تصدیق ہوئی اس کی

بے شک وہ نہیں اٹھتے آنکھوں سے جو گرتے ہیں

کمبخت کبھی جی سے گزرنے نہیں دیتی

جینے کی تمنا مجھے مرنے نہیں دیتی

ان سے سب حال دغاباز کہے دیتے ہیں

میرے ہم راز مرا راز کہے دیتے ہیں

اچھے برے کو وہ ابھی پہچانتے نہیں

کمسن ہیں بھولے بھالے ہیں کچھ جانتے نہیں

آج آئیں گے کل آئیں گے کل آئیں گے آج آئیں گے

مدت سے یہی وہ کہتے ہیں مدت سے یہی ہم سنتے ہیں

لیلیٰ ہے نہ مجنوں ہے نہ شیریں ہے نہ فرہاد

اب رہ گئے ہیں عاشق و معشوق میں ہم آپ

وہ ہاتھ میں تلوار لئے سر پہ کھڑے ہیں

مرنے نہیں دیتی مجھے مرنے کی خوشی آج

بے وجہ محبت سے نہیں بول رہے ہیں

وہ باتوں ہی باتوں میں مجھے کھول رہے ہیں

دل کو تم شوق سے لے جاؤ مگر یاد رہے

یہ نہ میرا نہ تمہارا نہ کسی کا ہوگا

جگر کی چوٹ اوپر سے کہیں معلوم ہوتی ہے

جگر کی چوٹ اوپر سے نہیں معلوم ہوتی ہے

آتے آتے راہ پر وہ آئیں گے

جاتے جاتے بد گمانی جائے گی

ساقی جو دل سے چاہے تو آئے وہ زمانہ

ہر شخص ہو شرابی ہر گھر شراب خانہ

ان کا وعدہ ان کا پیماں ان کا اقرار ان کا قول

جتنی باتیں ہیں حسینوں کی وہ بے بنیاد ہیں

خاک ہو کر ہی ہم پہنچ جاتے

اس طرف کی مگر ہوا بھی نہیں

ہمیں اصرار ملنے پر تمہیں انکار ملنے سے

نہ تم مانو نہ ہم مانیں نہ یہ کم ہو نہ وہ کم ہو

کوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیں

دیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں

شرما کے بگڑ کے مسکرا کر

وہ چھپ رہے اک جھلک دکھا کر

وہ بات کیا جو اور کی تحریک سے ہوئی

وہ کام کیا جو غیر کی امداد سے ہوا

دل انہیں دیں گے مگر ہم دیں گے ان شرطوں کے ساتھ

آزما کر جانچ کر سن کر سمجھ کر دیکھ کر

غیر کا عشق ہے کہ میرا ہے

صاف کہہ دو ابھی سویرا ہے

اللہ رے ان کے حسن کی معجز نمائیاں

جس بام پر وہ آئیں وہی کوہ طور ہو

اے نوحؔ توبہ عشق سے کر لی تھی آپ نے

پھر تانک جھانک کیوں ہے یہ پھر دیکھ بھال کیا

نوح بیٹھے ہیں چارپائی پر

چارپائی پہ نوح بیٹھے ہیں

یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں

ہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیں

بھری محفل میں ان کو چھیڑنے کی کیا ضرورت تھی

جناب نوح تم سا بھی نہ کوئی بے ادب ہوگا

پامال ہو کے بھی نہ اٹھا کوئے یار سے

میں اس گلی میں سایۂ دیوار ہو گیا

مجھ کو نظروں کے لڑانے سے ہے کام

آپ کو آنکھیں دکھانے سے غرض

چلو نوحؔ تم کو دکھا لائیں تم نے

نہ مے خانہ دیکھا نہ بت خانہ دیکھا

اسیران قفس کو واسطہ کیا ان جھمیلوں سے

چمن میں کب خزاں آئی چمن میں کب بہار آئی

ابھی اس قیامت کو میں کیا کہوں

جو گزرے گی جی سے گزرنے کے بعد

موسم گل ابھی نہیں آیا

چل دیئے گھر میں ہم لگا کر آگ

دم جو نکلا تو مدعا نکلا

ایک کے ساتھ دوسرا نکلا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے