Nooh Narvi's Photo'

نوح ناروی

1878 - 1962

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

اپنے بے باک لہجے کے لئے معروف ، داغ دہلوی کے شاگرد

نوح ناروی کا تعارف

تخلص : 'نوحؔ'

اصلی نام : محمّد نوح

پیدائش : 18 Sep 1878 | رائے بریلی, اتر پردیش

وفات : 10 Oct 1962

رشتہ داروں : امید فاضلی (شاگرد), بسمل الہ آبادی (شاگرد)

آج آئیں گے کل آئیں گے کل آئیں گے آج آئیں گے

مدت سے یہی وہ کہتے ہیں مدت سے یہی ہم سنتے ہیں

نوح ناروی اپنی زود گوئی ، داغ کی شاگردی اور داغ کی وفات کے بعد ان کی جانشینی کیلئے بہت مشہور ہوئے ۔ نوح ان شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے تخلص کو اپنی شاعری کی صورت گری میں بہت جگہ دی ۔ ان کے مجموعوں کے نام دیکھئے ۔ سفینہ نوح ، طوفان نوح ، اعجاز نوح ، وغیرہ ۔  نوح کی شاعری میں جگہ جگہ طوفان اور اس کے متعلقات کا ذکر بھی ملتا ہے ۔

نوح ناروی کا نام محمد نوح تھا ۔ نوح تخلص کرتے تھے ۔ نوح ناروی کی پیدائش 18  ستمبر 1878 کو ضلع رائے بریلی (اترپردیش) میں ہوئی ۔  ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اس کے بعد میر نجف علی سے فارسی ، عربی کا درس لیا اور ان زبانوں میں کمال حاصل کیا ۔ انگریزی زبان سے بھی واقفیت حاصل کی -

نوح نے اپنی شاعری میں زبان اور موضوع کا وہی شکوہ اور بانکپن رکھنے کی کوشش کی جو داغ کا خاصہ تھا ۔ ان کی شاعری عشق سے جڑے موضوعات کے ایک نئے علاقے کی سیر کراتی ہے 


موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI